ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان : آدھی رات تک دھما چوکڑی کے بعدعمران اقتدار سے بے دخل، عمران خان  تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں بالآخر اقتدار سےمحروم

پاکستان : آدھی رات تک دھما چوکڑی کے بعدعمران اقتدار سے بے دخل، عمران خان  تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں بالآخر اقتدار سےمحروم

Mon, 11 Apr 2022 11:03:03    S.O. News Service

اسلام آباد، 11؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) پاکستان میں آدھی رات تک چلنے والے ڈرامے کے بعدسنیچر اوراتوار کی درمیانی شب عمران خان  تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں بالآخر اقتدار سےمحروم ہوگئے۔  اس سے قبل اس اندیشے کے پیش نظر کہ حکومت سپریم کورٹ کی حکم عدولی کرتے ہوئے تحریک اعتماد پر ووٹنگ سے بچنا چاہتی  ہے، راتوں رات پاکستانی  سپریم کورٹ کوکھولاگیا اور عدالتی حکوم عدولی کرنے والے افسرا ن کی گرفتاری کیلئے جیل کی گاڑی قومی اسمبلی تک پہنچ گئی تاہم سارا معاملہ اس وقت ٹائیں  ٹائیں  فش ہوگیا جب اسپیکر اور نائب اسپیکر دونوں  نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے بجائے  مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپوزیشن لیڈر اور قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے ایوان کی کارروائی آگے بڑھائی اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کی ذمہ داری نبھائی۔ 

 سنیچر کو صبح 10؍ بجے سے جاری اجلاس میں ڈرامائی موڑ  اُس وقت آیا جب اسپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پانچویں بار اجلاس کی مختصر صدارت کی اور رات ساڑھے۱۱؍بجے کے قریب استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ ان کے علاوہ نائب اسپیکر قاسم سوری نےبھی عہدہ سے استعفیٰ  دیدیا۔ اسپیکر اسد قیصر نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈر  ایاز صادق کو قائم مقام اسپیکر کے طور پر  ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی دعوت دی  ۔

  اس سے قبل حکومت کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ  کے معاملے میںمسلسل  ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا جاتارہا جسے سپریم کورٹ کی حکم عدولی قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے عدالت سے رجوع کی دھمکی بھی دی ۔ سپریم کورٹ نے چونکہ  ۹؍ اپریل کو ہی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دیاتھا اس  لئے یہ امکان پیدا ہونے کے بعد کہ9؍ اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہوگی، توہین عدالت  کے ممکنہ معاملے کی شنوائی کیلئے رات کو 12؍ بجے سے پہلے ہی سپریم کورٹ کو کھول دیاگیا اور افسران توہین عدالت کے ممکنہ مقدمے کی شنوائی کیلئے وہاں پہنچنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کی حکم عدولی کی صورت میں خاطی افسران کی گرفتاری کیلئے جیل کی ایک گاڑی بھی قومی اسمبلی پہنچ گئی ۔ تاہم یہ ساری دھماچوکڑی  بے معنی ثابت ہوئی کیوں  کہ اسپیکر اور نائب اسپیکر نے دن ختم ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔  اندازہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سخت رُخ کی وجہ سے ہی حکومت  نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی راہ ہموار کی اور اسپیکر اور نائب اسپیکر نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیدیا  تاکہ قائم مقام اسپیکر  اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر  ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھا سکے۔

 قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے نشست سنبھالتے ہی اپوزیشن  لیڈرشہباز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور اجلاس کورات11؍ بجکر 58؍منٹ پر 4؍ منٹ کیلئے ملتوی کیا کیوں کہ پاکستان کاآئین آدھی رات کے بعد قومی اسمبلی کی کارروائی کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔   12؍ بجکر 20؍ منٹ پر (ہندوستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 12؍ بجے)  ایوان کی کارروائی بحال ہوتے ہی  تحریک عدم اعتماد  پرووٹنگ  کروائی گئی جس کی حمایت میں۱۷۴؍ ووٹ ڈالے گئے اور عمران خان اقتدار سے بے دخل ہوگئے۔ان کی پارٹی  پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے عدم اعتماد کی کارروائی میں ووٹ  نہیں دیئے۔

  پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے  اقتدار سے محرومی کے بعداتوار کو بلائے گئے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ اس کے تمام اراکین قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیں گے۔ شیخ رشید اور فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ اسمبلی میں نہیں بیٹھ سکتے۔ انہوں  نے کہا کہ ’’اگر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے تو کل ہی مستعفی ہوجائیں گے۔‘‘  یہ فیصلہ عمران خان کی زیر صدارت  پی ٹی آئی  کی کور کمیٹی  کے اجلاس  میں کیاگیا ۔واضح رہے کہ عمران خان تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے والے ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں  پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا اور وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے متعلق بھی  گفتگو بھی ہوئی۔  


Share: